اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ایک قریبی ذریعے نے جماعت کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق کے مصر چھوڑنے کی خبروں کی سختی سےتردید کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مرزوق تاحال قاہرہ ہی میں مقیم ہیں اوران کا وہاں سے کسی دوسرے ملک سفر کا کوئی پروگرام نہیں ہے، نیز حماس کی قیادت مصر کی نگراں حکومت کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے۔
قاہرہ میں حماس کے ایک باوثوق ذرائع نے”مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ "ابو مرزوق، ان کے اہل خانہ اور ان کے ساتھ کام کرنے والا دیگر عملہ ابھی تک قاہرہ ہی میں ہے۔ قاہرہ میں حماس کی قیادت مصرکی نئی نگراں حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسی سے مسلسل رابطے میں ہے۔ تیس جون کے مظاہروں کے بعد منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے ردعمل میں ڈاکٹر ابو مرزوق نے قاہرہ چھوڑنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں مصری میڈیا میں آنے والی تمام خبریں من گھڑت ہیں”۔
حماس کے اخباری ذریعے نے بتایا کہ ڈاکٹرمرزوق اور مصری انٹیلی جنس حکام کے درمیان بھی رابطے قائم ہیں۔ حال ہی میں حماس نے ڈاکٹر ابو مرزوق ہی کے ذریعے رفح گذرگاہ کے معاملے پرمصری حکام سے مذاکرات کیے تھے اورعمرہ سے واپس آنے والے شہریوں کی مدد کے لیے رح بارڈ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس پڑوسی اور برادر ملک مصرکے اندرونی سیاسی امور میں مداخلت کی پالیسی پر قطعاً عمل پیرا نہیں ہو گی۔ حماس کے تمام مصری سیاسی گروپوں کے ساتھ یکساں روابط ہیں۔
