اسرائیلی سیکیورٹی حکام اور جیلروں نے مقبوضہ فلسطین میں بنائی گئی درجنوں جیلوں میں رات کے اوقات میں”سرچ آپریشن” میں اضافہ کر دیا ہے جس کے باعث اسیران کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے صہیونی حکام کے اس اشتعال انگیز ہتھکنڈے کے خلاف احتجاج بھی شروع کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیران کے امورکے لیے سرگرم تنظیم "کلب برائے اسیران” کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ قیدیوں کے خلاف رات گئے سرچ آپریشن کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
تنظیم کے سیکرٹری راغب ابو دیاک نے رام اللہ میں صحافیوں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کی بناء پررات کے اوقات میں قیدیوں کا آرام و سکون برباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صہیونی فوجیوں اور جیلروں میں رات کے اوقات میں قیدیوں کو نیند سے جگا کران کی کوٹھڑیوں اور سامان کی تلاشی لینا ایک اشتعال انگیز عمل ہے جس کی ہرسطح پرمذمت کی جائے گی”۔
راغب ابو دیاک کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج کے سرچ آپریشن کے دوران قیدیوں کو بیڑیاں ڈال کر صحن اور دیگرکھلے مقامات پرپھینک دیاجاتا ہے تاکہ وہ چل نہ سکیں۔ اس دوران ان کے ذٓاتی استعمال کی اشیاء کی توڑپھور بھی کی جاتی ہے۔ یہ عمل کئی گھنٹے تک جاری رہتا ہے، جو فلسطینی اسیران کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
