جنوبی افریقہ کے”عالمی اتحاد برائے فلسطین’’ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں سے ان کی مذہبی آزادی کو چھین رہا ہے۔ یہ بیان القدس میں متشدد یہودیوں کے مسجد اقصی اور دیگر مقدس مقامات پر حملوں میں تیزی کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
عالمی اتحاد کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں متعصب اور نسل پرستانہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت مختلف قوانین اور ناروا پالیسیوں کے ذریعے فلسطینیوں سے ان کے حقوق چھین رہی ہے۔ دوسری جانب یہودیوں کو بے جا مراعات دی جا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ القدس کو یہودی مملکت بنانے کی اسرائیلی پالیسیوں کو کسی بھی صورت سند جواز عطا نہیں کی جا سکتا۔ یہ شہر 1967ء میں ہتھیائے گئے فلسطین کا جزو لاینفک ہے جسے اسرائیلی حکومت 1948ء کے مقبوضہ فلسطین (نام نہاد اسرائیل) میں ضم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
بیان کے مطابق کہ اسرائیلی حکومت اہالیان القدس کی مشکلات میں اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے۔ یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی نسل پرستانہ کارروائیاں جاری ہیں، مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی پر حملے تیز کردیے گئے ہیں۔
عالمی اتحاد نے اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کی بے حرمتی کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصی پر دھاوں کا مقصد اس مقام پر مکمل قبضے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
