اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبے کے رکن ڈاکٹر خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ قومی مصالحت منصوبے کی کامیابی کا دارو مدار نئی عبوری حکومت کی تشکیل اور انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے مربوط ہے۔
ان خیالات کا اظہار حماس کے رہنما نے ایک اخباری بیان میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر لسٹوں میں ترمیم اور اضافہ مصالحت کا ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ایسے میں ہمیں آگے بڑھنا ہو گا، پیچھے کی طرف دیکھنا مناسب نہیں۔
حماس کے رہنما نے کہا کہ مصالحت کی راہ میں حائل رکاوٹٰیں ختم کرنا تمام فلسطینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ کی جیلوں میں قید سیاسی اسیران کی رہائی میں تاخیر مصالحتی عمل میں رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اسیران کی رہائی مصالحت کے لئے ساز ماحول تیار کرنے میں معاون ثابت ہو گی، اسی کی روشنی میں انتخابات کی تاریخ مقرر کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی، صدارتی اور بلدیاتی انتخابات کی تاریخ باہمی مشورے سے مقرر کی جائے گی۔ نیز حکومت کی مدت کا تعین بھی باہمی مشورے سے ہو گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
