مغربی کنارے کے شہر نابلس میں النجاح یونیورسٹی میں سیاسیات کے معروف پروفیسرعبدالستار قاسم نے ‘فتح’ تنظیم کی جانب سے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی تنظیموں کو اسرائیلی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد ترک کرنے کی کال کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
قدس پریس کو دیئے گئے ایک بیان میں فلسطینی دانشور نے یہ بات زور دیکر کہی کہ مسلح مزاحمت ہی دراصل اسرائیلی تسلط کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزاحمت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسی سے مجبور ہو کر قابض صہیونی فلسطینی سرزمین سے اپنے ناپاک قدم ہٹانے پر مجبور ہوں گے۔
فلسطینی سیاسی مبصر نے مزید کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فوجی آپشن کو استعمال کیا جائے۔ اسی کے ذریعے مسلح یہودی آباد کاروں اور سرکاری فوج کے حملے ناکام بنائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا غزہ کو اپنی فوجی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا ہو گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی اسرائیلی حملے کی صورت میں خطے کا مضبوط دفاع کیا جا سکے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
