فلسطین میں قابض اسرائیل کی جانب سے جاری ریاستی دہشت گردی اور جنگ کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی انکوائری کمیٹی نے غزہ کی پٹی میں انسانی حقوق کے کارکنوں سے صہیونی جرائم کےخلاف گواہیاں حاصل کی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن کے ارکان نے غزہ کا دورہ کیا جہاں پیر کے روز انسانی حقوق کی تنظیم” مرکز برائے انسانی حقوق” کے مندوبین سمیر رفوت اور مرفت النحال نے انکوائری کمیٹی کے روبرو صہیونی جنگی جرائم سے متعلق اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے مندوبین نے عالمی انکوائری کمیشن کو زبانی بیان ریکارڈ کرانے کے بعد ان کی تحریری کاپیاں بھی”یواین” کمیشن کو فراہم کیں۔ تحریری گواہیوں میں گواہوں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کےخلاف جنگی جرائم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے اور بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا جبکہ غزہ کی پٹی میں چھ سال سے معاشی پابندیاں عائد ہیں۔ تین سال قبل اسرائیل نے محصور شہر پر جنگ مسلط کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی جس کے بعد اس کی تعمیر نو کا عمل تاحال شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔
عینی شاہدین نے اقوام متحدہ کے کمیشن کو بتایا کہ صہیونی فوج کے مظالم پرعالمی برادری کی جانب سے فلسطینیوں کی مدد کے لیے کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں جنگی جرائم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان جرائم کی روک تھام اور اسرائیل کا محاسبہ کرنے کے سلسلے میں عالمی برادری نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں، جو بذات خود ایک قسم کا جنگی جرم ہے۔
عینی شاہدین نے صہیونی جنگی جرائم کے بارے میں گذشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی کارروائیوں کی ایک مفصل رپورٹ بھی پیش کی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ یکم جون دو ہزار گیارہ سے رواں سال جون تک صہیونی فوج نے روز مرہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کےخلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کیا۔
فلسطینی گواہوں کی فراہم کردہ تفصیلات میں قابض صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی جان ومال اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی بھی تفصیلات بتائی گئیں بتایا کہ صہیونی حکومت نےجنگی جرائم کے تحت فلسطینیوں کی صنعت، تجارت، زراعت اور حتی کہ ماہی گیری کو بھی تباہ کرنے کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
