عرب اور یورپی ممالک کی امدادی تنظیموں کی جانب سے روانہ کیا گیا قافلہ "میلوں کی مسکراہٹ چودہ” ہفتے کے روز غزہ کی پٹی میں پہنچ گیا۔
یہ امدادی قافلہ مصر کے راستے غزہ کی سرحد تک پہنچا جہاں اسے رفح باڈر سے ایک استقبالی قافلے کی شکل میں شہر میں لایاگیا۔ قافلے میں مختلف عرب اور یورپی ممالک کے اکتالیس مندوبین شامل تھے۔
قافلے کا استقبال کرنے والوں میں مجلس قانون ساز کے اراکین، سیاسی جماعتوں کے رہ نما اور کارکن اور بڑی تعداد میں عام شہری شامل تھے۔
قافلے کے امیر عصام یوسف نے غزہ آمد پرمیڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے محصورین غزہ کی امداد جاری رکھنے کے اپنے عزم کو دو ہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کی محصورین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مصری حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے پڑوس میں بھوکے ننگے فلسطینیوں کی مدد میں کوئی کسر نہ چھوڑے۔ عصام یوسف نے توقع ظاہر کی مصری کی نئی حکومت اور صد ڈاکٹر محمد مُرسی فلسطینیوں کی امداد اور ان کے حقوق کے لیے کوششیں کرنے کے اپنے وعدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔
ادھر غزہ کی پٹی میں امدادی قافلے کے شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے وزیر برائے سماجی امور احمد الکرد نے عالمی امدادی تنظیموں کی جانب سے محصورین غزہ کی مدد جاری رکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ قافلے کے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو ختم کرنے کے لیے ان پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کی سازش تیار کی تھی لیکن عالمی امدادی کارکنوں نے صہیونی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
