فلسطین پریس کلب کی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کی شاخوں نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر محمود عباس کے زیرانتظام رام اللہ اتھارٹی عدلیہ کا خوف دلا کر آزادی صحافت کا گلہ دبانے کی کوشش کررہی ہے۔
پریس کلب کی جانب سے فلسطینی صحافی اور "ریڈیو بیت لحم2000” کے ڈائریکٹر اور سینیئر صحافی جارج قنواتی کے مسلسل ٹرائل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین پریس کلب کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی کے سیکیورٹی اہلکاروں نے جارج قنواتی کو محض اس وجہ سے حراست میں لیا ہے کہ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر اپنے صفحے پر یہ لکھا تھا کہ فلسطینی انتظامیہ اسرائیلی فوج سے مل کرکریک ڈاؤن کرکے قوم دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جارج قنواتی کو بدھ کے روز بیت لحم میں مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد عباس ملیشیا کے پراسیکیوٹرجنرل کی خصوصی سفارش پران کے مقدمہ کا فیصلہ سنائے جانے کے بجائے ان کی تاریخ میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے صحافی جارج قنواتی کو گذشتہ برس ستمبر2011ء کو بیت لحم سے حراست میں لیا تھا۔ عباس ملیشیا کی جانب سے قنواتی پرالزام عائد کیا ہے کہ وہ فیس بک کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی کےخلاف اشتعال انگیزی کررہا تھا۔ اس کے علاوہ جب اسے حراست میں لیا گیا ہے تو اس کے قبضے سے اسرائیلی ساختہ شراب بھی ملی ہے تاہم محروس صحافی کے وکیل اور اس کے اہل خانہ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

