مفتی اعظم شیخ علی جمعہ کے مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے متنازعہ دورے کے بارے میں اسرائیلی ریڈیو نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دورہ اسرائیلی حکومت کی باضابطہ منظوری کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق شیخ علی جمعہ کی مسجد اقصیٰ آمد سے
قبل اسرائیلی فوج کو آگاہ کیا گیا تھا اور فوج نے اس کی منظوری دی تھی، جس کے بعد ان کا بیت المقدس میں داخلہ ممکن ہوا ہے۔
اسرائیل کےفوجی ریڈیو نے جمعرات کی شام اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ "مفتی دیار مصر شیخ علی جمعہ کو اسرائیل کی منظوری کے بعد مسجد اقصیٰ کا دورہ کرایا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے دورے کے بارے میں فوج کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا”۔ رپورٹ کے مطابق شیخ علی الجمعہ اردن سے النبی پل کے راستے بیت المقدس میں داخل ہوئے اور ان کے ہمراہ اردنی شہزادہ غازی بن حمد جو شاہ عبداللہ دوم کے مذہبی امور کے مشیر بھی ہیں شامل تھے۔
درایں اثناء مصر کی سب سے بڑی علمی درسگاہ جامعہ الازھرنے شیخ علی جمعہ کے دورہ مسجد اقصیٰ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے جواب طلبی کی ہے۔ جمعرات کے روز جامعہ الازھر کے ایک ہنگامی اجلاس میں شیخ علی جمعہ کو طلب کرکے ان سے دورہ بیت المقدس پرسخت سرزنش کی گئی۔ اس موقع پر شیخ علی جمعہ نے اپنے دورہ مسجد اقصیٰ کے بارے میں وضاحت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ نجی نوعیت کا تھا، جس کا مصری حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ نیز وہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے بارے میں جامعہ الازھرکی پالیسی پر کار بند ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

