مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ روز حماس کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے عدالتی فیصلے پر اپیل کی سماعت جسٹس اسامہ صبری کی عدالت میں ہوئی۔ مختصر سماعت کے بعد عدالت نے مزید سماعت چھ جون تک ملتوی کردی۔ چھ جون کو عدالت اپیل پراپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ مصرکی ایک فوج داری عدالت نے 28 فروری کو اپنے ایک فیصلے میں حماس پر سابق برطرف صدر حسنی مبارک کے دورمیں ان کے خلاف بغاوت کے وادی النطرون جیل توڑنے،اخوان المسلمون کے کارکنوں کو فرار کرانے میں مدد کرنے تحریر اسکوائر میں اخوان المسلمون کے کارکنوں کے ساتھ مل کرمخالفین کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور اس الزام کے تحت حماس کو "دہشت گرد ” تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل بھی کی گئی تھی اور حماس کےخلاف درخواست گذار وکلاء نےاپنی درخواستیں واپس لے لی تھیں۔
مصر کی ایک عدالت میں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے پرمصری حکومت کو بھی عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بالخصوص مصر اور فلسطینیوں کے درمیان رابطے اور فلسطینی تنظیموں کےدرمیان مفاہمت کے لیے مصری مساعی کو اس فیصلے سے سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
