رپورٹ کے مطابق یومالارض کے حوالے سے جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بدھ کو مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء میں اسرائیلی قبضے میں چلے جانے والے علاقے البطوف اور جزیرہ نما النقب میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی مظالم کی یاد میں ریلی نکالی۔ احتجاجی مظاہرے کا اہتمام سپریم عرب فالو اپ کمیٹی اور یافا کی دیگرمختلف تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا۔
منگل کے روز جزیرہ نما النقب میں ام الحیران کے مقام پر مزکری جلوس نکالا گیا جس کے بعد اس میں مزید جلوس بھی شامل ہوتے گئے۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ کتبوں پراسرائیلی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کےخلاف شدید نعرے بھی درج تھے، مظاہرین نے فلسطینیوں کی املاک پرقبضے کے بعد انہیں متعصب یہودیوں کو فروخت کرنے کے ظالمانہ صہیونی روش کےخلاف بھی نعرے بازی کی۔
اس موقع پرمقررین نے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی حکومت کے مظالم کی جانب مبذول کرائی اور مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مظلوم فلسطینیوں کی املاک انہیں واپس دلوانے کے لیے اسرائیل پردباؤ ڈالے۔ مظاہرہے میں طلباء انسانی حقوق کے مندوبین اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔
خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین میں 30 مارچ سنہ 1976ء کو الجلیل شہرمیں یہودی فوج اور انتہا پسند صہیونیوں کی منظم میں چھ فلسطینی شہید کرکے ان کی املاک قبضے میں لے لی تھیں۔ فلسطینی تیس مارچ سنہ 1976ء کے بعد اس دن کو ” یوم الارض ” پر ہرسال باقاعدہ گی سے مناتے ہیں۔ فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر منایا جاتا ہے اور جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ سنہ 1948 ء کے بعد سے 1972 ء تک صہیونی ریاست کی منظم توسیع پسندی کے نتیجے میں فلسطینیوں کی دو ملین آبادی پرغاصبانہ قبضہ کیا۔
