(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نام نہاد فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین کے خلاف "آئرن وال” کے نام سے شروع کی جانے والی دیشتگردانہ کارروائیاں مسلسل تیسرے روز بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس دوران دس فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی خودمختار حکومت کے سیکیورٹی اداروں نے اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے والے افراد کا پیچھا جاری رکھا اور جنین کی پناہ گزین کیمپ سے پانچ مزاحمت کاروں کو گرفتار کرلیا۔
دوسری جانب صیہونی دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی فوجی شاخ، القسام بریگیڈ نے ہوٹل میں حملہ کرنے والے شہیدوں قتیبہ الشلبی اور محمد نزال کو خراج عقیدت پیش کیا، جنہیں جنین کے برقین قصبے میں اسرائیلی فوج نے محاصرے کے دوران شہید کیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے ان کے گھر پر کئی راکٹ اور ڈرون حملے کیے، جس سے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ القسام بریگیڈ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے جنگجو جنین کے مغربی قصبوں "عرابہ” اور "فحمہ” میں اسرائیلی فوج سے سخت لڑائی کر رہے ہیں، اور جنین شہر کے وسط میں ایک اسرائیلی بلڈوزر کو بم سے اُڑانے کا بھی دعویٰ کیا۔ اسی دوران، اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنائی گئی کارروائیوں کی نقل کرتے ہوئے جنین پناہ گزین کیمپ کے شہریوں کو مخصوص علاقوں میں جانے پر مجبور کیا، اور گرفتار افراد سے سفید کپڑے پہننے کا مطالبہ کیا۔
