مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "ھمہ نیوز یوتھ میڈیا فورم” کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض فوجیوں نے مئی میں مسجد اقصیٰ میں آنے والے 35 نمازیوں کو حراست میں لیا۔ ان میں 22 مرد، 10 خوتین اور تین بچے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قابض فوجیوں نے مئی کے دوران 32 فلسطینیوں کے قبلہ اول میں داخلے پابندی لگائی، جن میں 20 مرد، 9 خواتین اور 3 کم عمرلڑکے شامل ہیں۔ ان میں سے 26 کو براہ راست قبلہ اول میں داخلے سے جبکہ 5 کو باب العامود میں داخلے سے روکا گیا۔
دوسری جانب یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول کی بے حرمتی کی کلین چٹ دی گئی اور مجموعی طورپر 952 یہودیوں نے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔ ان میں 166 انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ "متحدہ یرشلیم” کی مناسبت سے ایک ہی دن میں 155 یہودی قبلہ اول میں داخل ہوئے اور مذہبی رسومات کی ادائی کے ساتھ ساتھ مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران صہیونی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے نمازیوں پر 25 بار حملے کرکے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران تین خواتین کو سیکیورٹی مراکز میں طلب کرکے انہیں قبلہ اول میں داخلے سے روکنے کے نوٹس جاری کیے گئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
