اسرائیلی حکومت نے القدس میں یہودی آباد کاری تیز کرتے ہوئے 930 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے لیے ٹینڈرز جاری کردیے ہیں۔
اسرائیلی محکمہ اراضی اور منسٹری آف کنسٹرکشن اینڈ ہاؤسنگ نے پانچ ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر کی مارکیٹنگ شروع کردی ہے۔ ان پانچ ہزار میں سے دوہزار گھر ایسے علاقوں میں تعمیر کیے جائینگے جہاں پر گھروں کی ضرورت میں اضافہ ہواہے۔
اسرائیلی ہفت روزہ جریدے کول ھیعر کے مطابق اراضی کو عام قیمت کے 25 تا 35 فیصد پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس سب کا مقصد گھروں کے کرایوں کو کم کرنا اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔
یہودی آباد کاری امور کے ماہر اور عرب مطالعاتی تنظیموں کے شعبہ نقشہ جات کے سربراہ خلیل تفکجی نے ہفتے کے روز ذرائع ابلاغ کے لیے جاری اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی بلدیہ مقبوضہ بیت المقدس نے گزشتہ ہفتے کے دوران اپنے جاری کردہ پلان نمبر 13900 تشکیل دیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق عناتا، عیساویہ، شعفاط اور وادی رجعیات کے علاقوں میں مزید رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائینگے۔
خلیل تفکجی کے مطابق اسرائیلی حکومت اور بلدیہ نے اسرائیلی پولیس اور سرحدی گارڈز کے ہیڈ کوارٹرز کے درمیان واقع اراضی کو مہنگی کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
