مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق’’یش دین‘‘ نامی انسانی حقوق گروپ نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی باشندوں کی جانب سے یہودی آباد کاروں کے خلاف دی گئی درخواستوں میں سے 10 فی صد سے بھی کم پر کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے جبکہ 90 فی صد سے زاید درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی شکایت کنندگان کی شکایات کے حوالے سے اسرائیلی پولیس اور عدلیہ دونوں کا رویہ یکساں ہے۔ اگر فلسطینی شہری یہودی آباد کاروں کے خلاف کوئی شکایت لے کراسرائیل کی عدالتوں میں بھی جاتے ہیں تو انہیں وہاں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ اسرائیلی سیکیورٹی ادارے، عدلیہ اور حکومت دانستہ طور پر فلسطینیوں سے امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کی شکایات پر کوئی کارروائی نہ کرنا یہودیوں کو برتر سمجھنے اور فلسطینیوں اور یہویوں کے مابین امتیاز برتنے کا کھلا ثبوت ہے۔
’’یش دین‘‘ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2005ء سے رواں ماہ نومبر تک مقبوضہ مغٖربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی فائرنگ، پرتشدد حملوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے فلسطینی باشندوں نے 1045 شکایات درج کرائیں لیکن ان میں سے چند درجن شکایات پر کوئی کارروائی کی گئی باقی تمام شکایات ردی کی ٹوکری میں ڈال دی گئیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
