مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کی شہری امور کی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کل سالوں سے ’’اعداد کے قبرستان‘‘ میں دفن اکانوے فلسطینی شہداء کے جسد خاکی فلسطینی حکام کے حوالے کریگا۔
اسرائیلی حراست میں شہداء کے اجساد خاکی کی رہائی کی مہم کے ڈائریکٹر سالم خلہ نے خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ کو بتایا کہ شہری امور کی وزارت نے جمعرات کے روز فلسطینی شہداء کی نعشوں کو وصول کرنے کے انتظامات شروع کردیے ہیں۔
قوم کی خاطر جانوں کے نذرانے دینے اور پھر کئی سال اسرائیل کے بنائے گئے خصوصی’’اعداد کے قبرستان‘‘ میں دفن رہنے والے ان شہداء کی نعشوں کا رام اللہ کے ہیڈ کوارٹر میں پرتپاک استقبال کیا جائے گا۔ شہداء کی لاشوں کو فوجی سلامی بھی پیش کی جائے گی۔ سالم خلہ نے بتایا کہ جون کے وسط میں اسرائیلی حکام ’’اعداد کے قبرستان‘‘ میں مدفون مزید ستر فلسطینی شہداء کو رہا کردے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کو جمعرات کے روز سپرد کیے جانے والے شہداء کی فہرست میں فلسطینی مزاحتی تاریخ کے معروف ’’سافوی‘‘ آپریشن کے ساتھ شہداء کے نام بھی شامل ہیں۔ سنہ 1975ء میں اس کارروائی کے دوران فلسطینی مجاہدین نے تل ابیب میں ایک اسرائیلی ہوٹل کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔
اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار فلسطینی شہداء کی فلسطینی حکام کو سپردگی کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے صدر محمود عباس کو نیک نیتی کا ایک پیغام قرار دے رہے ہیں، اسرائیلی ذرائع نے اس اسرائیلی اقدام کو فلسطین اور اسرائیل کے مابین مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ’’اعداد کا قبرستان‘‘ وہ قبرستان ہے جہاں اسرائیلی حکام عرب اور فلسطینی شہداء کو دفن کرتے ہیں۔ اس قبرستان کی قبروں پر مدفون کے ناموں کی تختیاں نصب نہیں کی جاتیں بلکہ صرف قبروں پر نمبر درج کردیے جاتے ہیں۔ صہیونی حکام نے ان اسرائیلی قبرستانوں کے گرد سخت سکیورٹی انتظامات کر رکھے ہیں اور کسی بھی صحافی، انسانی حقوق کی تنظمیوں کے کارکنوں یا شہداء کے اہل خانہ کو قبرستان میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ نہ ہی قبرستان میں مدفون کسی فلسطینی کی معلومات کسی کو دی جاتی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

