مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے اسرائیلی وزیرداخلہ نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک کم سے کم نو سو فلسطینی گرفتار کیے گئے اور ان میں سے تین سو پر مختلف نوعیت کے مقدمات کے تحت فرد جرم عاید کی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیرداخلہ برائے قومی سلامتی یتزحاق نے مزید کہا کہ جون میں مقبوضہ مغربی کنارے میں تین یہودی آباد کاروں کی گم شدگی اور ہلاکت کے بعد فلسطینیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں ایک ہزار کے قریب فلسطینی گرفتار کیے گئے۔ اس دوران جولائی میں شمالی بیت المقدس میں شعفاط کے مقام سے ایک فلسطینی لڑکا محمد ابو خضیر یہودی آباد کاروں نے اغواء کیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ پولیس نے ابو خضیر کےقاتل بھی گرفتار کرلیے۔
تاہم اسرائیلی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان نو سو فلسطینیوں میں سے کتنوں کو بعد میں رہا کیا گیا اور کتنے تاحال جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔
ادھر بیت المقدس میں اسرائیل کے میئر نیر برکات نے کہا ہے کہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی جانب سے یہودی مفادات اور یہودی آباد کاروں پر سنگ باری کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہر ماہ کم سے کم 200 مرتبہ فلسطینی یہودی آباد کاروں پر سنگ باری کرتے ہیں۔ گذشتہ غزہ جنگ سے اب تک کم سے کم ایسے 5000 واقعات پیش آچکےہیں۔
اسرائیلی میئر نے اعتراف کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے خلاف جولائی سے اگست کے آخر تک مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی سلامتی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں یہودی آباد کار زیادہ غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ سات جولائی سے 26 اگست تک غزہ کی پٹی پر بلا توقف جاری رہنے والے خون خوار اسرائیلی فوج کے زمینی، بحری اور فضائی حملوں میں 2100 فلسطینی شہید اور 11 ہزار سے زاید زخمی ہوگئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
