فلسطینی حکومت کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور وپولیس ہرسال 900 کم سن فلسطینی بچوں کو حراست میں لینے کے بعد جیلوں میں ڈالتی ہیں جنہیں دوران حراست ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
فلسطینی وزارت امور اسیران کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں کم سن فلسطینیوں کی گرفتاریوں اورانہیں جیلوں میں ڈالنے کے رحجان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پچھلے سالوں کےدوران سالانہ 700 کم سن لڑکوں کو حراست میں لیا جاتا رہا ہے لیکن اب یہ شرح اوسطا900 تک جا پہنچی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے جانے کے بعد کم عمرفلسطینی لڑکوں کے ساتھ جنگی مجرموں جیسا سلوک روارکھا جاتا ہے۔ انہیں جیلوں میں جسمانی، ذہنی، نفسیاتی حتیٰ کہ جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صہیونی جیلرفلسطینی کم سن اسیروں کے حوالے سے بنیادی انسانی حقوق اورعالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیرحراست کم عمربچوں کواعتراف جرم کرانے کے لیے تشدد کے تمام حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بچوں کو جیلوں کے علاوہ یہودی کالونیوں کےاندربنائے گئےحراستی مراکز اور ٹارچرسیلوں میں رکھا جاتا ہے، جہاں انہیں تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 180 کم عمرافراد کو کئی سال قبل حراست میں لیا گیا جو اب 18 سال کی عمرسےتجاوز کرکے بالغ قیدیوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ یہ تمام قیدی”عوفر، مجدو، اور شیرون جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ زیرحراست بچوں میں 43 کی عمریں 14 سال سے بھی کم ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
