اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی گرفتاریاں تیز کردی ہیں، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نو بچوں سمیت 53 فلسطینی شہریوں کو بلاوجہ گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیاہے۔
اسیران مطالعاتی مرکز، فلسطین نے ہفتے کے روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ صہیونی فورسز نے القدس، الخلیل، نابلس، طولکرم، بیت لحم اور رام اللہ کے شہروں سے زیادہ گرفتاریاں کیں۔
گرفتار کیے جانے والوں میں چار وہ اسیران بھی شامل ہیں جو صہیونی حراست سے رہائی پا چکے تھے۔ اسی طرح اٹھارہ سال سے کم عمر نو بچے بھی دھر لیے گئے۔ ان بچوں میں سب سے کم عمر چودہ سالہ محمد منذر بیضون ہیں جنہیں قبلہ اول مسجد اقصی کی جنوبی سلوان کالونی سے گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اغوا کیے گئے افراد میں بیرون ملک سے آنے والے رضا کار بھی شامل ہیں۔ یہ رضا کار مغربی کنارے میں یہودی بستیوں اور نسلی دیوار کی تعمیر کے خلاف ہفتہ وار مظاہروں سے گرفتار کیے گئے۔
اسیران امور کے مطالعاتی مرکز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کسی قیمت پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں روکنے کو تیار نہیں ہے۔ ہر شعبہ زندگی کے افراد کو اغوا کیا جا رہا ہے۔ طلبہ، صحافی، اساتذہ اور ڈاکٹرز سمیت حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو تفتیش کے لیے طلب کیا جا رہا ہے۔ گرفتار کیے جانے والے افراد کو عقوبت خانوں اور تفتیشی مراکز میں بہیمانہ تشدد اور تعذیب کے انسانیت سوز مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ اسرائیلی حکام متعدد افراد کو بغیر فرد جرم کے انتظامی حراست میں ڈال دیتے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
