اسرائیل کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے قبلہ اول کے جنوب میں واقع بستان کالونی میں اٹھاسی فلسطینی گھروں کو گرانے کے حکومتی فیصلے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اسرائیلی بلدیہ کی درخواست پر خصوصی طور پر اس کیس کی سماعت کے لیے ھنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ”توراتی باغ”کی تعمیر کے سلسلے میں اپنے سابق فیصلے میں اسرائیلی حکومت کو فلسطینی گھرو ں کی مسماری سے روکنے کی ہدایت واپس لے لی ہے۔ اس سے قبل کے فیصلے میں صہیونی عدالت نے انتظامیہ کو جون کے مہینے تک ان گھروں کو گرانے سے گریز کرنے کا کہا تھا۔
سلوان کی جائیدادوں اور اراضی کی دفاعی کمیٹی کے رکن مراد ابو شافع نے بتایا کہ یہ عدالتی اجلاس بلدیہ کی درخواست پر ھنگامی بنیادوں پر بلایا گیا تھا جس میں فلسطینیوں کو اگلے جون تک انہیں گھروں میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی اور حکومت کو گھروں کی مسماری موخر کرنے کا کہا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی گھروں کے دفاعی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اہل علاقہ نے گھروں کو گرائے بغیر توراتی باغ تعمیر کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے تاہم اسرائیلی پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ اس موقع پرابو شافع نے صہیونی بلدیہ نے فروری 2009 میں بستان کالونی میں اپنا پہلا ھیکلی منصوبہ مسترد کر کے یہاں پر 88 فلسطینی گھروں کو منہدم کرنے کی اجازت دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ سلوان کالونی کے فلسطینی کسی صورت اپنے آباء واجداد کے گھرو ں کو خالی نہیں کرینگے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سلوان کا دفاع کرتے رہیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کالونی کا خاصہ یہ بھی ہے کہ اس نے مسجد اقصی کے جنوبی علاقے کے محافظ کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ اس کالونی پر اسرائیلی قبضے کے بعد یہودیوں کے لیے اس جانب سے مسجد اقصی تک پہنچنے کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
