قابض اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے میں سب سے اعلیٰ سویلین اتھارٹی "سول ایڈمینسٹریشن” نے گذشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے کی مختلف یہودی بستیوں میں 878 نئے ہائوسنگ یونٹس کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بات اسرائیل سے شائع ہونے والے عبرانی روزنامے ہارٹز نے رپورٹ کی ہے۔
اس منصوبے کے تحت رام اللہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں چھوٹی چھوٹی یہودی بستیوں میں سینکڑوں ہائوسنگ یونٹس تعمیر کئے جائینگے۔ ان 878 یونٹس میں سے 5 یونٹس مقبوضہ یروشلم کے نزدیک موجود شیلو بستی، 55 یونٹس تلمون کی یہودی بستیوں، 255 یونٹس نحالہ تل اور 17 امانہ بستی کے لئے منظور کئے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ باقی ہائوسنگ یونٹس میں سے 38 کوخاف یعقوف بستی، 87 وادی اردن میں قلقال بستی، 156 الموج یہودی بستی اور اس کے علاوہ 91 ہائوسنگ یونٹس الون یہودی بستی میں تعمیر کئے جائینگے۔
دریں اثناء اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں سال 2013 کے پہلے چھ ماہ کے دوران یہودی آبادکاروں کی آبادی میں 7700 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کنونشنز کی روشنی میں اسرائیل فلسطینی زمینوں پر یہودیوں کو بسانے کی خاطر تعمیرات نہیں کرسکتا مگر اسرائیل نے آبادکاری کی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
