فلسطینی پانی اور ماحول کے ماہر تجزیہ کار عبد الرحمن التمیمی کا کہنا ہے کہ اوسلو معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں فنی اور سیاسی رکاوٹیں ہیں جن میں سے ایک بڑا مسئلہ اسرائیل کا فلسطینی پانی کے ذخائر پر قبضہ ہے، جس کے بعد فلسطینیوں کا کردار صرف سروسز کے شعبے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
فلسطینی ہائیڈرولوجی ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل التمیمی نے رام اللہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پانی کے مسئلے کا حتمی حل موخر ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ کچھ مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوسلو معاہدے میں زرعی پانی کے معاملے پر بحث نہیں کی گئی۔ اسی طرح اسرایل نے فلسطین بھر کے کل پانی کے 82 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔
نہوں نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین 1993ء میں ہونے والے اوسلو معاہدے میں شریک فلسطینی مزاحمت کاروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ مذاکرات قوم کے پانی کے حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہے بالخصوص انہوں نے دریائے اردن کے پانی پر فلسطینی حق کی ضمانت بھی حاصل نہیں کہ جبکہ دوسری جانب اسرائیل کو باقی تمام پانی کے ذخائر پر قبضہ کرنے اور مستقبل میں پانی کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کو ویٹو کرنے کا حق دیدیا گیا۔
عبد الرحمن التمیمی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ مستقبل میں فلسطین اور مشرق وسطی میں تنازع پانی کے ذخائر پر ہی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینی قوم کی پانی کے امکانات پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کی اقتصادی، انسانی اور قدرتی ذرائع کی ترقی کے راستے مسدود کرکے رکھ دیے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
