مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی سابقہ کابینہ میں شامل وزیر برائے ہائوسنگ اوری آرئیل نے 2014 ء کے آخر میں خفیہ طور پر بیت المقدس میں آٹھ سو مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی تاہم اس پرعمل درآمد موخر کر دیا گیا تھا۔
صہیونی حکومت کی جانب سے یہ انکشاف حال ہی میں اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے سپریم کورٹ میں جاری ایک کیس کی وضاحت کے دوران کیا گیا۔ پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ حکومت نے خفیہ طور پر بیت لحم میں آٹھ سو مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی اور مکانات کی تعمیرات کا اختیار "افراط” یہودی کونسل کو دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارت ہائوسنگ نے یہودی توسیعی منصوبے کے لیے نو لاکھ شیکل یعنی اڑھائی لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی بجٹ بھی منظور کیا تھا۔
عبرانی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق نئی تعمیر ہونےوالی یہودی کالونی کو”گیفات ھعیطام” کا نام دیا گیا تاہم اس کے عبرانی نام کی حساسیت کی وجہ سے کوڈ نام کے طورپر E2 کا نام دیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
