مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "کلب برائے اسیران” کے ڈائریکٹر ناصر قوس نے میڈیا کو بتایا کہ دو ماہ قبل قابض صہیونی فوجیوں اور انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے دو فلسطینی لڑکوں محمد ابوخضیر اور اور محمد جعابیص کو ظالمانہ انداز میں شہید کردیا تھا، جس کے بعد نام نہاد سیکیورٹی کے بہانے بیت المقدس کے مرکزی علاقوں وادی الجوز، شعفاط، العیسویہ، سلوان، الطور، الثوری الصوانہ اور قدیم مشرقی بیت المقدس سے آٹھ سو افراد کو حراست میں لے کر قید خانوں میں ڈالا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ناصر قوس نے بتایا کہ فلسطینی شہریوں کے گھروں پر چھاپے قابض صہیونی فوج کا معمول بن چکےہیں۔ آئے روز اسرائیلی فوجی اور پولیس اہلکار فلسطینی شہریوں کے گھروں میں داخل ہوتے اور قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے مندوب نے بتایا کہ بیت المقدس میں صرف ایک رات کے کریک ڈاؤن میں 110 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے افراد محمد ابو خضیر کی اغواء کے بعد ظالمانہ انداز میں شہادت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ صہیونی فوج نے حراست میں لیے جانے والے شہریوں کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا گیا اور انہیں احتجاج کی پاداش میں بھاری جرمانے بھی کیے گئے۔
خیال رہے کہ حالیہ ماہ صیام کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں نماز فجر کے لیے گھر سے نکلنے والے ایک بارہ سالہ فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کو انتہا پسند یہودی آباد کار اغواء کرکے لے گئے تھے۔ اغواء کے آدھے گھنٹے بعد اس کی میت ایک ویران علاقے سے ملی تھی۔ اس پر فلسطین بھر بالخصوص بیت المقدس میں صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ صہیونی فوج نے مظاہرے روکنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا جس میں ایک ہزار کے قریب شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
