فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مشرقی شہر نابلس میں اسرائیلی فوج نے مقامی فلسطینی شہریوں کی 80 ایکڑ اراضی کو فوجی مقاصد کے لیے قبضے میں لے لیا، جس کے بعد فلسطینیوں کو اس علاقے میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوجیوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز فوج نے نابلس کے مشرق میں واقع عورتا اور روحیب فلسطینی قصبوں کی اسی ایکڑ اراضی کو فوجی مقاصد کے لیے قبضے میں لیا ہے۔
ادھرغرب اردن کے شمال میں یہودی آباد کاری کے خلاف قائم کمیٹی کے ایک عہدیدار غسان دغلس نے بتایا کہ عورتا اور روحیب قصبوں میں مغصوبہ زمین کے مالکان کو صہیونی فوجیوں کی طرف سے ڈاک کے ذریعے اطلاع دی گئی تھی کہ فوج نے ان کی زمین کو ملٹری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ مغصوبہ اراضی جنوب مشرقی نابلس میں قائم یہودی بستی”ایتمار” کے قریب ہے۔ اس یہودی بستی کی توسیع کے لیے بھی ماضی میں فلسطینیوں کی اراضی غصب کی جاتی رہی ہے۔ غسان دغلس نے بتایا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے اسرائیلی حکومت نے نابلس اوراس کے آس پاس موجود فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی پر قبضے کے پے درپے کئی آرڈرجاری کیے اور فلسطینیوں کو ان کی زرعی اراضی سے محرم کرتے ہوئے بڑی مقدار میں زمینیں غصب کر لی گئی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
