فلسطین کی کوئی 80 سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی گروپوں نے یورپی ممالک کے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کی شدید مذمت کی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست اور یورپی ملکوں کےساتھ فروغ پذیر تعلقات خطےمیں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ این جی اوز نے یورپی یونین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی اور تعلیمی شعبے سمیت 60 شعبوں میں تعاون کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے گروپوں اور این جی اوز نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف یورپی ممالک انسانی حقوق کی علمبرداری کی بات کرتے ہیں۔ دنیا میں جمہوریت کےفروغ اور آزادی کی حمایت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل جیسی غاصب ریاست کے ساتھ اقتصادی، سفارتی اور دیگر نوعیت کے معاہدے کرکے خود ہی عملا اپنے ان دعوؤں کو غلط ثابت کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں یورپی یونین کو صرف یہ یاد دلانا چاہتی ہیں کہ وہ صرف انسانی حقوق کے پہلو سے دیکھیں تو اسرائیل پوری دنیا میں اس سلسلے میں کتنا بدنام ہو چکا ہے۔ کیا یورپی ممالک صہیونی ریاست کے ساتھ اس نوعیت کے تعلقات کو فروغ دے کر انسانی حقوق کی پامالیوں میں اپنا حصہ نہیں ڈال دیا ہے۔
ادھر رام اللہ اور بیت المقدس میں یورپی یونین کے دفاترمیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ایک مراسلہ بھی جمع کرایا گیا ہے۔ اس مراسلے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے یورپ اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعاون کے نئے طے پائے معاہدوں کی شدید مذمت کی ہے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں یورپی یونین کے ممبر ممالک اور اسرائیل کے درمیان معیشت اور تعلیم سمیت ساٹھ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کےایک سمجھوتے پر دستخط ہوئےتھے۔ صہیونی حکام اس معاہدےکو یورپ میں اپنی خراب ہوتی ساکھ کوبہتر کرنے ایک اہم علامت کے طورپر دیکھ رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنطیموں نے اس کی سخت مخالف کی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
