مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے خلاف تاریخی عالمی ملین مارچ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ جمعہ تیس مارچ کو دنیا کے 80 ممالک کے 20 لاکھ افراد شرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق القدس ملین مارچ کمیٹی کے نگران ڈاکٹر ربحی حلوم نے اتوار کے روز اُردن کے دارالحکومت عمان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملین مارچ کی تمام فنی اور تکنیکی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں اسی ممالک کے دو ملین افراد شرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملین مارچ فلسطین سے ملحقہ چار عرب ممالک سے بیک وقت القدس کی طرف سفر شروع کرے گا۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں ڈاکٹر حلوم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے چھ براعظموں سے ہزاروں افراد کے قافلے القدس کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ تمام قافلے، اردن، مصر، شام اور لبنان کے راستے بیت المقدس کی سرحد کے ساتھ تیس مارچ بروز جمعہ جمع ہوں گے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں القدس ملین مارچ کے نگران نے کہا کہ ان کے اس ملین مارچ میں امریکا سے تعلق رکھنے والے چار یہودی ربی بھی شامل ہیں، جو اسرائیل کے وجود کے خلاف اور بیت المقدس اور فلسطین پر یہودیوں کے قبضے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ ان یہودیوں کا تعلق "ناطوری کارتا” یہودی گروپ سے ہے جو مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیرکے نظریے کا بھی مخالف ہے۔
ڈاکٹر ربحی حلوم نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ان کا ملین مارچ مکمل طور پر پرامن ہو گا۔ ہمارے کسی کارکن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہو گا۔ ہم پرامن احتجاج کریں گے اور دنیا کو بیت المقدس پراسرائیل کے ناجائز تسلط کے خلاف اپنا فیصلہ سنا کر واپس چلے جائیں گے۔ انہوں نےاسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ القدس ملین مارچ کے قافلوں پر جارحیت کے استعمال کی کسی بھی حرکت سے گریز کرے۔

