اسرائیل کے ایک تھینک ٹینک کے زیراہتمام کیے گئے عوامی سروے میں 78 فی صد یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کے مقام پر یہودیوں کے مذموم ہیکل سلیمانی کی فوری تعمیر کے قائل ہیں۔
یہودی آباد کاروں کی اکثریت ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی غرض سے مسجد اقصیٰ پر جارحیت کے حامی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل میں سرگرم تھینک ٹینک”ماگار موحوٹ” کے زیراہتمام کیے گئے عوامی سروے میں 78 فی صد رائے دہندگان نے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ پر زیادہ سے زیادہ یلغار کرنے کے حمایت کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدت پسندوں کےعلاوہ سیکولر خیالات رکھنے والے یہودیوں نے بھی ہیکل سلیمانی کی فوری تعمیر کی حمایت کی ہے۔ مجموعی طور پر سروے جائزے میں شدت پسند مذہبی گروپ”حریدیم” سے تعلق رکھنے والے 18 فی صد اور سیکولر نظریات کے حامل 45 فی صد یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی حمایت کی۔
سروے جائزے کے مطابق 80 فی صد یہودی مذہبی جماعتوں کے ارکان نے کہا کہ مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے دھاوے یہودی شریعت کے مطابق ہونے چاہیئیں۔ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کا داخلہ محض تفریحی نہیں بلکہ وہاں پر تلمودی تعلیمات کے مطابق عبادات کی ادائیگی بھی لازمی ہونی چاہیے۔
مذہبی جماعتوں کے 68 فی صد یہودیوں نے سیاحتی سرگرمیوں کے ذریعے مسجد اقصیٰ پر حملوں کی ترغیب دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کے تاریخی مقامات کی سیر کی آڑ میں یہودیوں کی بڑی تعداد کو مسجد اقصیٰ پر یلغار کے لیے جمع کیا جا سکتا ہے۔ سیکولر یہودیوں کی 60 فی صد اور انتہا پسند گروپ”حریدیم” سے وابستہ 20 فی صد ارکان بھی ان کے ہم خیال ہیں۔
مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کے لیے ایک بڑے معبد کی تعمیر کے حوالے سے سرکاری سطح پر ریفرنڈم کرانے کی تجویزپر پوچھے گئے سوال پر 73 فی صد مذہبی شدت پسندوں نے ریفرنڈم کی مخالفت کی جبکہ 52 فی صد اعتدال پسند یہودیوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔
