فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے ایک مرکزی رہ نما نبیل شعث نے کہا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی فلسطین کے 78 فی صد رقبے سے دستبردار ہو چکی جس کے بعد اب مزید لچک کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے ہم فلسطین کی 15 عالمی اداروں میں شمولیت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ 63 مزید عالمی اداروں، معاہدوں اور تنظیموں کی رکنیت کے بھی درخواست دیں گے۔
مصری خبر رساں ادارے "مینا” سے بات کرتے ہوئے فتح کی سینٹرل کمیٹی کے سینیئر رکن نبیل شعث نے کہا کہ مذاکرات کے لیے نو ماہ کاعرصہ کافی ہونا چاہیے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ نو ماہ کے عرصے میں دوسرت فریقن [اسرائیل] کی جانب سے کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا جبکہ فلسطینیوں سے مزید لچک کا مطالبہ کیا جا رہا ہے حالانکہ فلسطینی پہلے اپنے وطن کے اٹھہتر فی صد رقبے سے دستبردار ہوچکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی مذاکرات امریکی نگرانی میں امن مذاکرات کا عمل مزید آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں لیکن اب مذاکرات کی مزید بحالی عالمی قراردادوں کی روشنی میں ہوگی۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا اولین مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل سنہ 1967 ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے اور بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے لیے خالی کردے۔ ہم فلسطین میں عالم فوج کی تعیناتی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اسرائیل کے لیے ہم پہلے ہی 78 فی صد اراضی سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ مزید کوئی شرائط نہیں مانیں گے۔ اسرائیلی قیادت ہم سے صہیونی ریاست کو "یہودی ریاست ” کے طور پر تسلیم کرانے کا مطالبہ نہ کرے۔ ہم ایسا ہرگز نہیں کرسکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
