فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں میں رہنے والے انتہاء پسند یہودیوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نابلس کے مختلف علاقوں پر حملے کیے اور ان کارروائیوں میں فلسطینیوں کے لگ بھگ 750 زیتون کے درختوں کو نذر آتش کردیا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ”التضامن فاؤنڈیشن” کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں نے ساڑھے سات سو زیتون کے درختوں کو جلانے میں زرعی اجناس کے لیے نقصان دہ کیمیائی مواد استعمال کیا، یہ کارروائیاں نابلس کے جنوبی دیہاتوں عورتا اور بورین میں ایک لاکھ ایکڑ اراضی پر قبضہ کرکے انہیں یٹسھار اور ایتمار یہودی بستیوں میں شامل کرنے کے لیے کی گئیں۔
عورتا گاؤں کی دیہی کونسل کے سربراہ سامی عواد نے یہودی حملوں کے متعلق بتایا کہ فلسطینی کسانوں کے لیے ممنوع قرار دی گئی اراضی کی مسافت 12 ہزار دونم ہو چکی ہے۔ اس اراضی میں صرف اسرائیل کے سکیورٹی تعاون کے بعد ہی داخل ہوا جا سکتا ہے کیونکہ اس اراضی کو یہودی بستی ایتمار کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔
فلسطینی دیہی کونسل کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران زیتون کے درختوں کو نذر آتش کرنے کا مقصد بھی فلسطینی اراضی پر قبضہ تھا۔
یہودیوں کے ان حملوں پر فلسطینی کسانوں نے زبردست احتجاج کیا ہے اور سرکاری اداروں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی اراضی کے تحفظ کے لیے آگے آئیں اور یہودی آباد کاروں کو حملوں سے روکیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
