(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کےعلاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے نتیجے میں دو ملین سے زائد آبادی کو سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے وہیں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ فلسطینی نوجوان بے روزگار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت لیبر کے شعبہ پلاننگ کے ڈائریکٹر جنرل ماجد اسماعیل نے بتایا کہ وزارت لیبر کے ہاں ایسے 75 ہزار گریجویٹ نوجوان رجسٹرڈ ہیں جو بے روزگار ہیں۔روزگار افراد کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے جب کہ غزہ میں مجموعی طور پر غربت کی شرح 41 فی صد سے زیادہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ماجد اسماعیل نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزارت مالیات اور دوسرے شعبوں کی جانب سے بے روزگاری کی شرح کنٹرول کرنے کی کوششوں کے باوجود بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں خاطرہ خواہ کمی نہیں لائی جاسکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران فلسطینی وزارت لیبر نے سول سیکٹر کے ساتھ مل کر 2500 تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار اسکیمیں شروع کی ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں بے روزگار کی شرح پرقابو پانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بھرپور تعاون کریں۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ 2006 ء میں اس وقت غزہ کی پٹی پرپابندیاں عائد کردی تھیں جب فلسطین میں پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی تھی۔ اسرائیل نے غزہ کے عوام کو حماس کوووٹ دینے کی پاداش میں گذشتہ ایک عشرے سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں وہاں کی دو ملین سے زائد آبادی کو سنگین مالی مشکلات کا سامنا کرن پڑ رہا ہے۔
