اسرائیل کی مختلف عدالتوں میں حال ہی میں حراست میں لیے گئے 74 فلسطینی شہریوں جسمانی ریمانڈ کے لیے ان کی مدت حراست میں مزید توسیع کے فیصلے صادر کیے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعملسامنے آیا ہے۔
فلسطینیی اسیران کی بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے "کلب برائے اسیران” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو 74 فلسطینی قیدیوں کو عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اسرائیلی ملٹری پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بجائے ان کے جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت سے مزید توسیع کے احکامات حاصل کیے۔ تاکہ نام نہاد عدالتی کارروائی کو مزید آگے بڑھا کر انہیں سنگین نوعیت کی سزائیں دلائی جا سکیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلیی عدالت الجلمہ مٰن ساجی ابو عذبہ، سلامی بدران، عیاش العبیات، خالد غنیات، انس الجعبہ، نزیہ ابو عون اور ولید حمدان کو پیش کیا گیا۔ عدالت نے ان قیدیوں کے مزید جسمانی ریمانڈ کے لیے انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔
ادھر "سالم” عدالت میں فلسطینی اسیران عماد مصلح، رفعت نعیرات، احمد جعفر، عمار جلاد، سمیر موسیٰ، محمد سعدیہ، شوقی قاسم، مہند جلامنہ، نجیب ابو النصر، سام غوادرہ، عمار مفلح، سامر قناوی، وسیم مری، جمیل شریم، علی القیسی اور مضمد عبدالجبار پیش کیا اور اور عدالت نے ان اسیران کی مدت حراست میں مزید غیرمیعنہ مدت کی توسیع کے احکامات دیے۔
عسقلان عدالت میں ایاد شبانہ، باجس ابو عیشہ، شریف قواسمہ، عمر ابو عیشہ، منہد نیروخ، اشرف نیروخ، محمد نجدی اور منجد ابو عیشہ میں پیشی کے بعد ان کی مدت حراست میں توسیع کے احکامات لیے گئے۔ بئر سبع کی عدالت سے محمدحمائل، حامد بدران، محمود روبین، عبدالرحمان جبکہ عوفرعدالت سے محمد مسلط، محمد مصباح، عماد عوض، عبدلھادی حماد، سامرصوافطہ، رمزی بدوی، خلیل عواد، عمرصباح، مراد ابو مخو، مضمد زیاد عبداللہ، یوسف طروہ، محمد یعقوب، امین ابو عمر، محمد سلامہ، ایہاب شیخ صبح، احمد ابو ترکی، عطا حمیدات، ماجد حمیدات، محمد راضی، علاءاجرب، محمود عکوش، محمد عکوش اور مراد ابو عامریہ کی حراستی مدت میں توسیع کے احکامات جاری کیے گئے۔
