فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اور مقبوضہ مغٍربی کنارے میں قابض صہیونی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں اگست میں 706 فلسطینی شہید اور 427 کو حراست میں لینے کے بعد جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔
مرکز برائے انسانی حقوق فلسطین کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے اگست میں غزہ کی پٹی میں بمباری کے دوران 698 فلسطینی شہریوں کو بمباری کے ذریعے شہید کیا جبکہ 08 فلسطینی مغربی کنارے میں صہیونی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگئے۔ مغربی کنارے میں شہید ہونے والے فلسطینی غزہ کی پٹی میں صہیونی فوج کی جارحیت کے خلاف جلوس نکال رہے تھے۔ سفاک صہیونی فوج نے ان پر براہ راست فائرنگ کی اور مختلف واقعات میں کم سے کم آٹھ شہری شہید ہوگئے۔ اس سے قبل جولائی میں قابض صہیونی فوج کی منظم دہشت گردی کے نتیجے میں 1467 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی اور اگست کے مہینے میں مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے چھاپوں کے دوران 427 فلسطینیوں کر حراست میں لے کرجیلوں میں ڈالا۔ یہ گرفتاریاں وسط جون میں الخلیل شہر میں تین یہودی لڑکوں کے اغواٰءاور قتل کے بعد فلسطینیوں کے خلاف جاری صہیونی فوج کے وحشیانہ کریک ڈائون ہی کا تسلسل تھیں۔ اس دوران سب سے زیادہ گرفتاریاں مقبوضہ بیت المقدس سے کی گئیں، جہاں حراست میں لیے جانے والے شہریوں کی تعداد 150 تک جا پہنچی ہے۔ دیگر شہریوں میں الخلیل 68 اسیران کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ بیت لحم سے 53، رام اللہ سے 49، نابلس سے 40، طولکرم سے 35، سلفیت سے 20، قلقیلیہ سے 10، اریحا سے سات اور طوباس سے پانچ فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ محروسین میں دو خواتین بھی شامل ہیں جن کی شناخت فداء سلیمان اور انعام قلمبو کے ناموں سے کی گئی ہیں۔
