(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ )اسرائیل حکام نے 42 سالہ فلسطینی مصنفہ اور صحافی لمہ خاطر کو 13 ماہ اسیری کے بعد جیل سے رہا کردیا۔وہ سماجی رابطے کی مشہور ویب سائٹ فیس بک پر صہیونی ریاست کے خلاف علم بغاوت کرنے کے الزام میں گزشتہ سال سے پابند سلاسل تھیں۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے 42سالہ فلسطینی مصنفہ اور صحافی لمہ خاطر کو 24جولائی 2018 کو مقبوضہ بیت المقدس کے شہر الخلیل میں ان کی رہائش گاہ سے وجہ بتائے بغیر گرفتار کیا تھا ، صیہونی فوج نے ان کے گھر میں گھس کر لوٹ مار کرتے ہوئے توڑپھوڑ کی جبکہ لمہ خاطر کا موبائل فون ،لیپ ٹاپ اور دیگرذاتی استعمال کے سامان کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا، صیہونی فوج نے انھیں 34 دن تک نامعلوم مقام پر غیر قانونی حراست میں رکھا گیا جہاں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک میں تفتیش کی گئی اس کے بعد انھیں عسقلان جیل میں منتقل کردیا گیا تھا اور وہیں انہوں نے اپنی قید کے 13 ماہ مکمل کیے ۔جہاں انکو آج صبح رہا کردیا گیا۔
واضح رہے کہ گرفتاری سے قبل لمہ خاطر کوبے لاگ سیاسی تجزیے اور آزادی کے حوالے سے اپنی تحریروں کے باعث اسرائیلی انٹیلی جنس کی طرف سے دھمکیاں موصول ہورہی تھی ۔
