فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے تازہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ ستمبر سنہ 2000ءمیں شروع ہونے والی فلسطینی تحریک انتفاضہ کے بعد قابض اسرائیلی جیلوں میں ڈالے گئے 700 فلسطینیوں کو ایک یا زائد مرتبہ عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں، ان میں سے537 قیدی ابھی تک صہیونی جیلوں میں ہیں جن میں عمرقید کے 430 فلسطینی اسیران بھی شامل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق اسٹڈی سینٹر "مرکزاحرار” گروپ کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے میڈیا کو بتایا کہ سنہ 2000ء میں شروع ہونے والی دوسری تحریک انتفاضہ کے بعد صہیونی فوج نے ہزاروں فلسطینیوں کو جیلوں میں ڈالا، ان میں سے سات سو فلسطینی باشندوں کو عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان میں 300 قیدی 18 اکتوبر2011ء کو اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے میں رہا کر دیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت مجموعی طورپر 1050 فلسطینیوں کو ایک یہودی فوجی کی رہائی کے بدلےمیں دشمن کی جیلوں سے رہائی نصیب ہوئی تھی۔
فواد الخفش نے بتایا کہ صہیونیوں یا اسرائیلی ایجنٹوں کو قتل کرنے کے الزام میں زیادہ سنگین نوعیت کی سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ بعض اسیران کو درجنوں مرتبہ عمرقید کی سزاؤں کا سامنا ہے۔ ان میں حماس کے ملٹری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے رکن عبداللہ البرغوثی 67 مرتبہ عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دنیا بھر میں عمرقید کی بھی کوئی حد مقرر ہے۔ بعض ملکوں میں عمرقید کی زیادہ سے زیادہ حد 20 یا 25 سال ہے جبکہ اسرائیل میں عمرقید سے مراد تاحیات قید ہے۔ یہی وجہ ہےکہ بعض فلسطینی اسیر تین تین عشرے قید کاٹنے کے باوجود صہیونی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں کریم یونس اور ان کے کزن ماہر یونس کی اسیری کو 30 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ انہیں بھی صہیونی عدالت کی جانب سے عمرقید کی سزا سنائی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
