مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کے ڈائریکٹر عبدالناصر فروانہ بے بتایا کہ سال 2014ء کا اختتام ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کی 18 جیلوں اور حراستی مراکز میں 06 ہزار 500 فلسطینیوں کو ٹھونسا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال میں جون کے بعد فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کا وحشیانہ کریک ڈاون شروع ہوا جس میں کم سے کم 4000 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے کچھ شہری تو رہا کیے گئے تاہم بیشتر کو مخلتف جیلی مقدمات کے تحت جیلوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔
فروانہ کی فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق زیرحراست فلسطینیوں میں 18 سال سے کم عمر کے 200 بچے اور 21 خواتین بھی شامل ہیں۔ 500 فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان میں فلسطینی مجلس قانون ساز کے 23 ارکان شامل ہیں۔ اہم شخصیات میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل احمد سعدات، فتح کی سینٹرل کونسل کے رکن مروان برغوثی، دو سابق وزیر عیسیٰ الجعبری اور وصفی قبہا شامل ہیں۔ اسیران میں سے 31 20 سال سے زاید عرصے سے زیرحراست ہیں۔ تیس قیدی سنہ 1994ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے اوسلو معاہدے سے بھی پہلے سے زیرحراست ہیں جبکہ 16 اسیران ربع صدی سے قید ہیں اور ایک قیدی ایسا بھی ہے جس کی اسیری کی مدت 32 سال ہوچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسیران میں 478 فلسطینیوں کو ایک یا کئی بار کی عمر قید سزا کا سامنا ہے۔ ان میں عبداللہ البرغوثی وہ اسیرہیں جنہیں سب سے زیادہ عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں ہیں۔ انہیں 67 مرتبہ عمر قید کی سزا اور 250 سال اضافی قید سنائی گئی ہے۔
اسیران میں 1500 مختلف جان لیوا امراض کا شکار ہیں۔ کچھ ایسے اسیر بھی ہیں جو خود سے حرکت کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے لیکن اسرائیل انہیں بھی اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے جیلوں میں بند کیے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے فلسطینیوں میں سے 100 فی صد کو حراستی مراکز میں وحشیانہ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں دی جاتی ہیں اور ان سے غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
