(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی خواتین کی تعداد 64 ہوگئی ہے جن میں 14 کم عمر بچیاں بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’’کلب برائے اسیران‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ رواں ماہ [مارچ] کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں مزید آٹھ خواتین کو حراست میں لیا گیا جن میں دو کم عمربچیاں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق کل منگل کو اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے جنوب مغربی قصبے یعبد میں تلاشی کے دوران ایک 17 سالہ فلسطینی لڑکی شیماء عطاطرہ کو حراست میں لے لیا۔ قبل ازیں صہیونی فوج نے نابلس سے 25 سالہ ایناس سعید ابو ھلال اور مشرقی بیت المقدس کے ابو دیس قصبے سے چاقو حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں 30 سالہ وفاء محمد ابو ھلال کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
خیال رہے کہ فلسطین میں پچھلے سال اکتوبرمیں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ القدس کے دوران اسے ناکام بنانے کے لیے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تھی۔ اس دوران بڑی تعداد میں فلسطینی خواتین کو بھی حراست میں لے کرانہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
