مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق اردنی فرمانروا کی جانب سے قبلہ اول کے لیے بھیجا گیا چھ ہزار تین سو میٹر قیمتی قالین کے بنڈل کل بدھ کو مسجد اقصیٰ میں پہنچائے گئے ہیں جنہیں فلسطینی ڈائریکٹر اوقاف و مذہبی امور الشیخ عزم الخطیب، مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر الشیخ علی الکسوانی اور دیگر اہم شخصیات نے وصول کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی ڈائریکٹر اوقاف الشیخ عزام الخطیب نے قیمتی قالین کا تحفہ بھیجنے پر شاہ اردن شاہ عبداللہ دوم اور ان کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قیمتی قالین کی خریداری پرآنے والی جملہ لاگت شاہ عبداللہ دوم نے اپنی جیب سے ادا کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہ عبداللہ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے لیے قیمتی قالین کا تحفہ پہلی مرتبہ نہیں بھیجا گیا بلکہ وہ ہردو سال بعد باقاعدہ سے مسجد اقصیٰ کے قالین تبدیل کراتے ہیں۔ اب کی بار انہوں نے یہ قالین مصر میں خصوصی آرڈر دے کر تیار کرائے ہیں، جو اپنی نفاست، معیار اور کوالٹی میں اپنی مثال آپ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ دوم کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے فرش پر بچھانے کے لیے قیمتی قالین کا تحفہ اردنی حکومت کی قبلہ اول سے محبت اور فلسطینی مقدسات کی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ الشیخ عزام الخطیب کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اردن سے قالین منگوانے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی گئی تھیں تاہم عمان حکومت نے صہیونی ریاست کا دبائو مسترد کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے لیے تیار کردہ قالین بیت المقدس بھجوادیے۔
اردنی فرمانروا کے اس گراں قیمت تحفے کی وصولی پر فلسطینی مدارس اور اوقاف کے سربراہ ڈاکٹر ناجح بکیرات، مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب الشیخ عکرمہ صبری اور مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر الشیخ عمر الکسوانی نے بھی شاہ اردن شاہ عبداللہ دوم اور ان کے خاندان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
