(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے سے متصل وادی اردن میں یہودی آباد کاروں نے فوج کی ملی بھگت سے فلسطینیوں کی 600 دونم زرعی اراضی پرقبضہ کرکے انہیں وسیع قیمتی اراضی سے محروم کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 ء کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے نام نہاد سیکیورٹی کی وجوہات کی آڑ میں فلسطینیوں کو اپنی اراضی میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہودی آباد کاروں نے ان کی اس اراضی پرقبضہ کرلیا۔رپورٹ کے مطابق سنہ 1967 ء میں اسرائیلی فوج نے فوجی قانون 151 منظور کیا جس کے تحت اردن کے ساتھ امن معاہدے کے بعد دریائے اردن کے کنارے وادی اردن میں فلسطینی عربوں کے داخلے پرپابندی عائد کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیاہے کہ دریائے اردن کے آس پاس فلسطینیوں کے ہزاروں ایکڑ رقبے پر اسرائیلی فوجیوں نے کیمپ قائم کرکے وہاں سے فلسطینیوں کو بے دخل کردیا گیا تھا۔ بے دخلی کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گذشتہ ایک سال میں یہودی آباد کاروں نے چھ سو دونم رقبے پر قبضہ کرکے فلسطینیوں کو وہاں سے بے دخل کردیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 5000 دونم فلسطینیوں کے لیے مختص کی گئی تھی مگر سنہ 2013 ء میں پتا چلا کہ یہ اراضی اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لی ہے اور اسے بہ تدریج یہودی آباد کاروں کو دیا جا رہا ہے۔
