• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیل کے وحشیانہ کریک ڈائون میں القدس کے 600 باشندے جیلوں میں بند

منگل 26-08-2014
in فلسطین
0
plf 600
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے مقدس اور تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس میں جون 2014ء کے بعد سے جاری وحشیانہ کریک ڈائون میں اب تک کم سے کم 600 شہریوں کو پکڑ کرجیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں ‌200  افراد کی عمریں 18 سال سے بھی کم بتائی جاتی ہیں۔ جنہیں عالمی قانون کی رو سے جنگی قیدی بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔
 
انسانی حقوق کے ادارے”کلب برائے اسیران” کے مندوب مفید الحاج نے اپنی ایک رپورٹ میں‌بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے 80 فی صد شہریوں‌پر  بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ کئی شہریوں کی گھروں پر جبری نظر بندی اور کئی دوسروں نو شہر بدری کی سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ قیدیوں پر جرمانوں کی حد کم سے کم 5000 ہزار شیکل ہے جبکہ بعض سے 10 ہزار شیکل تک بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔
 
رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج نے بیت المقدس میں ایک نیا کریک ڈائون شروع کیا جس میں کم سے کم مزید 100 شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد جیلوں میں ڈالا گیا ہے، تاہم ان میں سے بعض کو 48 گھنٹوں میں رہا کر دیا گیا۔ ایک دوسرے گروپ کی رہائی سےقبل اس سے ساڑھے 5000 ہزار شیکل فی کس کے جرمانوں کی ضمانتیں لی جا رہی ہیں۔
 
مرکز اطلاعات فلسطین کی ایک دوسری رپورٹ کے مطابق نہتے فلسطینیوں کی بلا جواز گرفتاریوں کا تازہ سلسلہ وسط جون میں مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں تین یہودی آباد کاروں کی پراسرار گم شدگی کے بعد شروع ہوا۔ ایک ماہ میں اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں 150 سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کے لیے کریک ڈاؤن کیے جن میں خواتین، بچوں سمیت سیکڑوں فلسطینیوں کو قید کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ اسی دوران آپریشن کا دائرہ مغربی کنارے سے باہر بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں تک پھیلایا گیا اور مجموعی طور پر کم سےکم 2000 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
 
حراست میں لیے جانے والے بڑی تعداد میں شہریوں کو بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں منتقل کرا دیا گیا۔ گرفتار کیے گئے تازہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی عدالتوں سے عجلت میں مقدمات قائم کرائے گئے اور انہیں دانستہ طور پر جیلوں میں پابند سلاسل کرنے کی راہ ہموار کی گئی۔
 
فلسطینی اسیران کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار عبدالناصر فروانہ نے اس موضوع پر انسانی حقوق کے ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حراست میں لیے گئے قیدیوں کو بھیکڑ بکریوں کی طرح عقوبت خانوں میں ٹھونسا گیا ہے جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔ زخمیوں میں کئی زخمی اور مریض ہیں لیکن وہ اسرائیلی فوج کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا سامنا کرتے ہوئے اب جیلوں میں بدترین مظالم بھی جھیل رہے ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.