یورپ سے تعلق رکھنے والے 60 انسانی حقوق کے بڑے اداروں اور تنظیموں نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی غیرانسانی سرگرمیوں اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی اداروں نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری
سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری صہیونی سازشوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یورپی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سات جون سنہ 1967 ء کو مقبوضہ بیت المقدس پر صہیونی قبضے کی یاد میں ایک یاداشت تیار کی ہے جس پر ساٹھ انسانی حقوق کے اداروں کے مندوبین کے دستخط ثبت ہیں۔ ان اداروں نے یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے 47 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے سیمینار، جلسے جلوس اور دیگر پروگرامات کے انعقاد کا بھی اعلان کیا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے تیار کردہ یاداشت میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل بیت المقدس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بیت المقدس جسے فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے، صہیونی توسیع پسندی کا گڑھ بن چکا ہے۔ بیت المقدس کے اصل باشندے [فلسطینی] بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیل بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اور ان کی جبری شہر بدری کے ظالمانہ ہتھکنڈوں پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ بیت المقدس میں اسرائیلی توسیع پسندی، فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی روکنے اور مقدش شہر کے تقدس کو قائم رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور بیت المقدس کو اس کا کھویا ہوا تاریخی تہذیبی و ثقافتی مقام دلائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
