ڈاکٹر سارہ ماروسک کا تعلق امریکہ سے ہے ، مشرق وسطیٰ کے امور پر مکمل مہارت رکھتی ہیں جبکہ سال 2012ء میں ہونے والے گلوبل مارچ ٹو یروشلم کی بین الاقوامی مرکزی کمیٹی کی رکن بھی ہیں، گذشتہ برس بھی گلوبل مارچ ٹو یروشلم ۔۲ میں بھرپور فعال تھیں تاہم اس برس تیسرے عالمیمارچ کے موقع پر بھی مکمل سر گرم عمل ہیں، دنیا بھر میں تحریک آزادی فلسطین کے لئے کام کرنے والی تحریکوں میں ڈاکٹر سارہ ماروسک کا نام بھی سر فہرست شامل ہے، حال ہی میں تیسرے بین الاقوامی مارچ برائے آذادی القدس کے عنوان سے انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کی مقبوضہ سرحدوں پر لاکھوں فلسطینی اور غیر فلسطینی فلسطین کی طرف اور القدس کی بازیابی کے لئے مارچ کریں گے۔
ڈاکٹر سارہ ماروسک نے کہا ہے کہ گذشتہ برس سات جون کو قبلہ اول بیت المقدس کی جانب ہونے والے دوسرے آزادی مارچ کے بعد سنہ2014ء میں ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قبلہ اول کی بازیابی کی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا تاہم اسی عنوان سے گلوبل مارچ ٹو یروشلم تھری کا فیصلہ کیا گیا جو رواں برس 6جون کو ہو گا۔
ڈاکٹر سارہ نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ قبلہ اول بیت المقدس خطرے میں ہے اور صیہونی اسرائیل قبلہ اول بیت المقدس پر مسلط ہو کر مسلمانوں کو اس حق ست دستبردار کرنا چاہتا ہے تاہم عالمی مارچ برائے آزادی القدس کا مقصد قبلہ اول کی بازیابی اور دنیا بھر میں بے گھر کئے جانے والے مظلوم فلسطینیوں کی فلسطین واپسی ہے۔
ڈاکٹر سارہ کاکہنا تھا کہ Global March to Jerusalem -3 کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں فلسطین کی آزادی کی جانب متحد اور مشترکہ اقدام اٹھانا ہے اور فلسطین کاز کی حمایت کا اعلان ہے، اس آزادی مارچ کا مقصد نیشنل اور بین الاقوامی سطح پر قدس کے مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور قبلہ اول کی آزادی کے لئے کوششوں کو مزید تیز کرنا ہے، ان کاکہنا تھا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا جان لے کہ قدس ایک سرخ لکیر ہے اور اس حوالے سے دنیا کے حریت پسند خاموش نہیں بیٹھیں گے، انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران اسرائیلی 66سالہ مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان مظالم کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا کیونکہ امریکہ سمیت عالمی برادری کی خاموشی اس بات کا سبب بن رہی ہے کہ غاصب اسرائیل رو بروز فلسطینیوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سارہ ماروسک کاکہنا تھا کہ غزہ کے عوام صیہونی محاصرے میں ہیں تاہم عالمی مارچ برائے آزادی القدس کا ایک مقصد غزہ کے محصورین کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے تا کہ غزہ کا صیہونی محاصرہ فی الفور ختم کیا جائے اور مظلوم فلسطینیوں کو اشیائے خورد و نوش کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ختم ہو سکے۔
ڈاکٹر سارہ نے کہا کہ 6جون کو ہونیو الے Global March to Jerusalem -3 (GMJ-3)کے لئے دنیا بھر میں کارکنان آزادی سے روابط جاری ہیں جبکہ مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر موجود فلسطینیوں کی شمولیت کے لئے بھی کمیٹیا تشکیل دی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک طرف فلسطینی 6جون کو قدس کی جانب مارچ کریں گے جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں 6جون کو گلوبل مارچ ٹو یروشلم کی حمایت میں مظاہرے کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ گلوبل مارچ ٹو یروشلم کا انعقاد یروشلم شہر پر صیہونی تسلط کے سینتالیس سال مکمل ہونے پر کیا جارہاہے جس کا مقصد یروشلم کی آزادی اور قبلہ اول کی بازیابی ہے۔
ڈاکٹر سارہ ماروسک نے کہا ہے کہ گذشتہ برس سات جون کو قبلہ اول بیت المقدس کی جانب ہونے والے دوسرے آزادی مارچ کے بعد سنہ2014ء میں ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قبلہ اول کی بازیابی کی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا تاہم اسی عنوان سے گلوبل مارچ ٹو یروشلم تھری کا فیصلہ کیا گیا جو رواں برس 6جون کو ہو گا۔
ڈاکٹر سارہ نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ قبلہ اول بیت المقدس خطرے میں ہے اور صیہونی اسرائیل قبلہ اول بیت المقدس پر مسلط ہو کر مسلمانوں کو اس حق ست دستبردار کرنا چاہتا ہے تاہم عالمی مارچ برائے آزادی القدس کا مقصد قبلہ اول کی بازیابی اور دنیا بھر میں بے گھر کئے جانے والے مظلوم فلسطینیوں کی فلسطین واپسی ہے۔
ڈاکٹر سارہ کاکہنا تھا کہ Global March to Jerusalem -3 کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں فلسطین کی آزادی کی جانب متحد اور مشترکہ اقدام اٹھانا ہے اور فلسطین کاز کی حمایت کا اعلان ہے، اس آزادی مارچ کا مقصد نیشنل اور بین الاقوامی سطح پر قدس کے مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور قبلہ اول کی آزادی کے لئے کوششوں کو مزید تیز کرنا ہے، ان کاکہنا تھا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا جان لے کہ قدس ایک سرخ لکیر ہے اور اس حوالے سے دنیا کے حریت پسند خاموش نہیں بیٹھیں گے، انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران اسرائیلی 66سالہ مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان مظالم کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا کیونکہ امریکہ سمیت عالمی برادری کی خاموشی اس بات کا سبب بن رہی ہے کہ غاصب اسرائیل رو بروز فلسطینیوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سارہ ماروسک کاکہنا تھا کہ غزہ کے عوام صیہونی محاصرے میں ہیں تاہم عالمی مارچ برائے آزادی القدس کا ایک مقصد غزہ کے محصورین کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے تا کہ غزہ کا صیہونی محاصرہ فی الفور ختم کیا جائے اور مظلوم فلسطینیوں کو اشیائے خورد و نوش کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ختم ہو سکے۔
ڈاکٹر سارہ نے کہا کہ 6جون کو ہونیو الے Global March to Jerusalem -3 (GMJ-3)کے لئے دنیا بھر میں کارکنان آزادی سے روابط جاری ہیں جبکہ مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر موجود فلسطینیوں کی شمولیت کے لئے بھی کمیٹیا تشکیل دی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک طرف فلسطینی 6جون کو قدس کی جانب مارچ کریں گے جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں 6جون کو گلوبل مارچ ٹو یروشلم کی حمایت میں مظاہرے کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ گلوبل مارچ ٹو یروشلم کا انعقاد یروشلم شہر پر صیہونی تسلط کے سینتالیس سال مکمل ہونے پر کیا جارہاہے جس کا مقصد یروشلم کی آزادی اور قبلہ اول کی بازیابی ہے۔
