اسرائیل نے گزشتہ دو سال سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع و تعمیر کا کام تیز کر رکھا ہے۔ ۔ پیر کے روز اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا کہ ستبمر کے مہینے میں صہیونی وزیر دفاع ایھود باراک نے ایتمار یہودی بستی میں 538 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی۔
وزارت دفاع کی جانب سے کیے گئے اس اقدامات کے بعد یہودی بستی ’’ایتمار‘‘ کا حجم پہلے سے دو گنا ہوگیا ہے۔ کثیر الاشاعات اسرائیلی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ کی ویب سائٹ کے مطابق وزارت دفاع کی منکشف ہونے والی دستاویز میں بتایا گیا کہ ایھود باراک نے یہ منصوبہ پلاننگ اینڈ بلڈنگ اتھارٹی کی کی تصدیق کے بغیر منظور کیا جس کا مطالبہ ہے کہ اس منصوبے کے مطابق تعمیر ہونے والے تمام گھر غیر قانونی ہیں۔
وزارت دفاع کی جانب سے کیے گئے اس اقدامات کے بعد یہودی بستی ’’ایتمار‘‘ کا حجم پہلے سے دو گنا ہوگیا ہے۔ کثیر الاشاعات اسرائیلی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ کی ویب سائٹ کے مطابق وزارت دفاع کی منکشف ہونے والی دستاویز میں بتایا گیا کہ ایھود باراک نے یہ منصوبہ پلاننگ اینڈ بلڈنگ اتھارٹی کی کی تصدیق کے بغیر منظور کیا جس کا مطالبہ ہے کہ اس منصوبے کے مطابق تعمیر ہونے والے تمام گھر غیر قانونی ہیں۔
اخبار کے مطابق یہودی آباد کاروں نے سن 2011 میں ایک فلسطینی نوجوان کے ہاتھوں یہودی خاندان کے قتل کے واقعے کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت اور یہودی آباد کاری کی کونسل پر دباؤ بڑھایا تھا کہ اس پروجیکٹ کو فی الفور منظور کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق 24 ستمبر کو ایتمار بستی میں نئی تعمیرات کے حوالے سے ایھود باراک کے دفتر میں ایک مباحثہ ہوا جس میں 137 غیر قانونی گھروں کو قانونی قرار دینے اور 538 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دیدی گئی تھی۔
