فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں عمرقید کی سزاؤں کا سامنا کرنے والے 525 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم” مرکزاحرار” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ اسرائیل کی درجن بھر جیلوں اور حراستی مراکز میں پانچ سو پچیس فلسطینی عمرقید کی سزاؤں کے تحت قید میں رکھے گئے ہیں۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسیران کو دی جانے والی عمر قید کی سزائیں درحقیقت موت کی سزائیں ہیں کیونکہ صہیونی جیلروں کی جانب سے جو سلوک فلسطینی اسیران کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے وہ دنیا کے کسی کونے میں نہیں ہے۔ سزائیں سنائے جانے اور جیلوں میں ڈالے جانے کے بعد بھی قیدیوں کو مسلسل جسمانی ، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا رہتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کےہاں عمرقید کی سزا کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات عمر قید کئی کئی سو سال پرمحیط ہوتی ہے۔ بعض اسیران کو کئی کئی بار کی عمرقید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ یوں عمر قید کا سزا یافتہ کوئی بھی اسیر رہائی کی امید نہیں رکھتا کیونکہ اس کی مدت اسیری کا کوئی تعین نہیں ہوتا۔ بعض اسیران کو بیس اور بعض کو پچاس سے بھی زائد مرتبہ عمرقید کی سزائیں جاتی ہیں۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ملٹری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے محروس کمانڈر عبداللہ البرغوثی کو 67 مرتبہ عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایک دوسرے اسیر حسن سلامہ کو47 مرتبہ اور عباس السید کو 36 عمرقیدوں کا سامنا ہے۔
