اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے مزید پانچ سو رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ یونٹس رام اللہ اور نابلس کے مابین واقع یہودی بستی ’’شیلو‘‘ میں تعمیر کیے جائیں گے۔
مزید برآں صہیونی وزارت دفاع کے مطابق صہیونی حکام نے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے 200 مزید رہائشی یونٹس کو برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
عسکری انتظامیہ میں سول امور کی اعلی منصوبہ بندی اعلی کمیٹی کے ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ وزارت دفاع کے زیرانتظام کمیٹی بدھ کے روز پانچ سو گھروں کو تعمیر کرنے کی منظوری دے دے گی۔
دوسری جانب شفوت راشیل نامی علاقے میں تعمیر کیے گئے دو سو کے لگ بھگ غیر قانونی یہودی گھروں کی بابت پوچھے گئے سوال پر کمیٹی کے ترجمان کا کہنا کہ ان گھروں کو انسانی بنیادوں پر درست قرار دے دیا جائے گا۔
نابلس سے تیس کلومیٹر جنوب میں واقع شیلو یہودی بستی میں یہودی آباد کاروں کی تعداد دو ہزار ہو چکی ہے۔ اس یہودی بستی کے ایک جانب شفوتراشیل کا علاقہ ہے جہاں چارسو غاصب یہودی آباد ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ان آباد کاروں سے بھی عہد کر لیا ہے کہ موقع ملتے ہی ان کے گھروں کو بھی جواز فراہم کر دیا جا سکے گا۔
الخلیل میں فلسطینی اراضی پر قبضہ
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں تیس ایکڑ کے لگ بھگ اراضی پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شہر کے جنوبی علاقے یطا میں واقع اس اراضی کو ریاست کی وقف اراضی میں شامل کر لیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ نے یطا میں قومی کمیٹی برائے انسداد یہودی آباد کاری کے ڈائریکٹر راتب الجبور سے یطا ٹاؤن کی اراضی پر قبضے کی بابت پوچھا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سےآبادی ام نیر کی تیس ایکڑ اراضی کو وقف کی اراضی قرار دینے کے نوٹسز موصول ہو گئے ہیں۔
راتب الجبور نے بتایا کہ انتہاء پسند یہودیوں نے اس زمین پر دو ہفتے قبل دھاوا بول کر یہاں موجود پانی کے کنووں اور غاروں کا معائنہ کرنےکے ساتھ ساتھ تمام اہم مقامات کی تصاویر بھی لیں تھیں۔ ان یہودیوں کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ زیادہ دیر فلسطینیوں کے قبضے میں نہیں رہے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

