• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

سلوان میں رہائش اختیار کرنے پر یہودی کے لیے 500 شیکل کی پیشکش

جمعرات 02-10-2014
in فلسطین
0
plf 500
0
SHARES
3
VIEWS

اسرائیلی حکومت اور صہیونی ریاست میں فلسطینی املاک، اراضی اور مکانات پر قبضے کے لیے نت نئے نئے حربے استعمال کیے جانے لگے ہیں۔ اسرائیل کی ایک انتہا پسند تنظیم "العاد” نے اس ضمن میں ایک انوکھا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

جو یہودی آباد کار بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب سلوان کالونی میں رہائش اختیار کریں گے، انہیں فی کس 500 شیکل یومیہ ادا کیے جائیں گے۔ اس آفر کے سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں یہودی آباد کاروں‌ نے سلوان کالونی پر یلغار کر کے فلسطینی شہریوں کے مکانات پر قبضہ کر لیا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "العاد” کی جانب سے یہ پیشکش سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر جاری کی گئی جسے بڑے پیمانے پر یہودی انتہا پسندوں‌ کی طرف سے پذیرائی دی گئی ہے۔

اسرائیلی انتہا پسند گروپ بیت المقدس کی سلوان کالونی کو عبرانی نام "عیر ڈیوڈ” سے یاد کرتے ہیں۔ گذشتہ سوموار کو "العاد” نامی گروپ کے انتہا پسندوں‌ نے اس کالونی پر حملہ کر کے فلسطینی شہریوں کے کئی مکانات پر یہ کہہ کر قبضہ کر لیا تھا کہ یہ علاقہ ان کی ملکیت ہے۔

اب اسی تنظیم زیر قبضہ مکانات میں یہودی آباد کاروں کو رہائش اختیار کرنے کی دعوت دی ہے اور ساتھ ہی انہیں فی کس یومیہ 500 شیکل کی رقم ادا کرنے کی بھی پیش کش کی ہے۔ تاہم رہائش اختیار کرنے والے یہودیوں کے لیے کچھ شرائط بھی عاید کی گئی ہیں۔ مثلا یہ کہ وہ اسلحہ کا استعمال جانتا ہو۔ بہتر ہے فوج یا کسی سیکیورٹی ادارے سے وابستہ ہو یا رہ چکا ہو اور کم سے کم 10 دن تک سلوان میں رہائش اختیار کرنے کے لیے تیار ہو۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹس کے مطابق "العاد” کی جانب سے منفرد نوعیت کی اس یہودی آباد کاری کی اسکیم کو یہودی حلقوں میں غیر معمولی طور پر سرہا گیا ہے۔ یہودی گروپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم یہودی آباد کاروں کو اس لیے وہاں آباد نہیں کر رہے تاکہ وہ سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں ‌بلکہ ہم انہیں وہاں ‌بسانا چاہتے ہیں۔ سیکیورٹی کے فرائض پولیس اور فوج بہ خوبی انجام دے رہی ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.