اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرجنین کے جنوب میں یعبد قصبے کے رہائشی 70 فلسطینی کاشت کاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کھیتوں میں اگائے گئے زیتون کے 500 پودے فوری طورپر تلف کردیں ورنہ اسرائیلی فوج انہیں آگ لگا کرخاکستر کردے گی۔
صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ الیعبد قصبے میں فلسطینیوں کے زیتون کے پودے ان فلسطینی لڑکوں کے لیے ایک پناہ گاہ ثابت ہو رہے ہیں جو اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آباد کاروں پر چھپ کر سنگ باری کرتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرآئیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کے باغات بالخصوص زیتون کی فصلات کی تباہ کاری کا یہ نیا اور انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل یہودی آباد کاروں کی مدد سے زیتون کے پھل دار درختوں پرحملے کیے جاتے اورانہیں اکھاڑ کر پھینکا جاتا رہا ہے لیکن اب قابض فوج نے براہ راست فلسطینی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے زیتون کے باغات کو اجاڑ دیں۔
اطلاعات کےمطابق چند روز قبل اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینیوں کودھمکی دی گئی تھی کہ وہ زیتون کے درختوں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔ یہ دھمکی زبانی تھی تاہم فلسطینیوں نے اس سے بھی پریشانی کا اظہار کیا۔ اس زبانی دھمکی کے چار روز بعد الیعبد قصبے کے کم سے کم 70 کسانوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کھیتوں اور اراضی میں اگائے گئے زیتون کے درخت اکھاڑ پھینکیں ورنہ فوج خود کارروائی کرے گی۔ ان درختوں کی تعداد پانچ سو سے زائد بتائی جاتی ہے۔
الیعبد میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین سامرابو بکرنے میڈیا کوبتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فراہم کردہ نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ الیعبد سےکچھ فاصلے پر واقع یہودی فوجی کیمپ سے لے کرخربہ مریحہ چوک تک کم وبیش چالیس میٹر علاقے میں مرکزی شاہراہ کے ارد گرد لگائے گئے پودے اکھاڑدیے جائیں کیونکہ سڑک کےآس پاس موجود یہ پودے فلسطینی کم سن لڑکوں کو چھپنے کا موقع فراہم کرتےہیں جہاں سے چھپ کر وہ یہودی آباد کاروں اور فوجیوں کو غلیلوں سے نشانہ بناتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
