اسرائیل کے ایک انتہا پسند یہودی پیشوا کی قیادت میں کئی انتہا پسند یہودیوں پر مشتمل ایک گروپ نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر مقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے۔ یہودا گلیک اور اس کے ساتھی مراکشی دروازے کے راستے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے
اور دیر تک تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتے رہے۔ اس دوران صہیونی فوج اور پولیس نے انتہا پسندوں کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتطامات کیے تھے۔
قبلہ اول کی تعمیرو مرمت کے نگراں ادارے "اقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” کے میڈیا ایڈوائزر محمود ابو عطا نے بتایا کہ منگل کے روز کم سے کم 50 یہودی آباد کار فلسطینیوں سے نفرت اور دشمنی میں بدنام زمانہ یہودی ربی یہودا گلیک کی معیت میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور کئی گھنٹے گھومنے پھرنے اور مذہبی رسومات کی ادائی کے بعد وہاں سے سخت حفاظتی انتطامات میں واپس ہوا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے انتہا پسند یہودیوں نے قبلہ اول کی مشرقی سمت باب الرحمہ کے قریب تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس نے 45 سال سے کم عمر کے فلسطینیوں کے قبلہ اول میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
