اسرائیل کے عبرانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکومت مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے شہر”یافا” میں کئی یہودی کالونیوں کےقیام کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق ان دنوں مقبوضہ "یافا” میں اسرائیل کے سرکاری اور غیرسرکاری کارندوں پر مشتمل ایک گروپ کم سے کم 12 یہودی کالونیوں کی تعمیر کے لیے ابتدائی تیاریوں میں مصروف ہے۔ یہ تمام یہودی کالونیاں یافا شہر کی مرکزی شاہراہ”یفت” کے آس پاس بنائی جارہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق امکانی طورپر ان کالونیوں کی تعمیر کا ٹھیکہ انتہا پسند یہودی "یعکوف ہائمن” کو دیے جانے امکان ہے، کیونکہ وہ ماضی میں متعدد مرتبہ یہ کہہ چکا ہے کہ وہ یافا کو "یہودی شہر” بنانے کا ایک دیرینہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اس نے مقامی آبادی میں شامل کیے گئے یہودیوں کو بھی یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ فلسطینیوں سے مکانات اور زمینیں خرید کراس پراپنا قبضہ مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔
رپورٹ کے مطابق یہودی انتہا پسندوں کےایک گرو”درہ یافا” کی جانب سے حال ہی میں یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ وہ کم قیمت پرفلسطینیوں سے اراضی اور مکانات کی خریداری کا ایک بڑا پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں۔ بعد ازاں ان مکانات اور اراضی کو انتہا پسند یہودیوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔
