اسرائیلی انتہاپسندوں نے فلسطینی مسیحی برادری کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے ایک ہفتے کے اندر اندر 1948 کے مقوضہ علاقوں کو خالی نہ کیا تو یہودی آبادکار انہیں قتل کردیں گے۔
ناصرہ کے فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ منگل کے روز یہودی آبادکاروں نے فلسطینی مسیحی برادری کو یہ خطرناک پیغام بھجوا دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ مقررہ وقت تک ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ذرائع نے بتایا کہ یہودی انتہاپسندوں نے یہ دھمکی آمیز خط ناصرہ کے ایک بشپ کے گھر میں بھیجا۔ خط کو موصول کرنے والے خاتون نے بتایا کہ خط میں لکھا گیا تھا،” تمھارے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ تم اسرائیل کی حدود سے باہر چلے جائو۔”
خط میں مزید بتایا گیا کہ،” عیسائی مذہب کے پیروکاروں کے پاس پانچ مئی 2014 تک وقت ہے کہ وہ یہ ملک چھوڑ دیں۔ یہ ڈیڈلائن بدلی نہیں جانی ہے اور اس میں ہر گھنٹے کی تاخیر پر 100 مسیحیوں کی جانیں لےلی جائیں گی۔”
اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک چالیس سالہ انتہا پسند یہودی آبادکار کو صفد سے حراست میں لے لیا اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔
